دل میرا ویران تھا احساس پر گہرا نہ تھا
تجھ سے پہلے خوف تھے پر غم کا یہ پہرہ نہ تھا
اور بھی اسباب تھے بربادئ دل کے مرے
سر تیرے یہ اس تباہی کا فقط سہر ا نہ تھا
تو نے میرے ذوق کا معیار مشکل کر دیا
تھی طبیعت جو تری سی تیرا سا چہرہ نہ تھا
منتظر آنکھیں رہیں برسوں تلک جس کے لیے
آہ! وہ لمحہ کہ جو لمحہ بھر کو بھی ٹھہرا نہ تھا
No comments:
Post a Comment