بڑی دیر سے ملے ہو!
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
جب زندگی ہماری
اک مشکبو کی مانند
دامان ڈھونڈتی تھی
جب حرف جوڑتے تھے
تو وہ صدا سی بن کر
میرے شہرِ آرزو میں
ہر لمحہ گونجتے تھے
تب کیو ں نہیں ملے تھے؟
جب حوصلے ہمارے
تیشے کو ہاتھ لے کر
کہسار کھودتے تھے
ہم تم کو ڈھونڈتے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
--------------------------------------
تب کیوں نہیں ملے
تھے؟
جب اپنی مملکت میں
اک شہر ِ آرزو تھا
اک گلشنِ وفا تھا
جہاں بلبلوں کے
نغمے
تھے ترجمان اپنے
لگتی تھی ساری دنیا
جب ہم کو کچھ نئی سی
ہم خود بھی جب نئے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
--------------------
کوئی شوقِ عہدِ رفتہ
مرے پاس اب نہیں ہے
کچھ ذوق رہ گئے ہیں
غم روزگار کے ہیں
گردش میں رات دن کی
بڑی دیر سے نہیں ہے
کوئی فرصتوں کی ساعت
جب فرصتیں بہت تھیں
جب حوصلے تھے قائم
جب آرزو کے گلشن
میں پھول کھل رہے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
بڑی دیر سے ملے ہو!
بڑی دیر سے ملے ہو!!
(ڈاکٹرعرفان شہزاد)
No comments:
Post a Comment