Tuesday, 11 August 2015

غزل

خاموش ہوں میں آنکھ نے بھی کچھ کہا نہ تھا
میں ضبط کے قانون کا مجرم ہوا نہ تھا
آواز میں محرومیوں کی باس تک نہ تھی
ہنستے ہوئے نمکینیوں کا ذائقہ نہ تھا
ہم وحشتوں کی اوج میں بھی ہوش مند تھے
ہم کو تیری رسوائیوں کا حوصلہ نہ تھا
سورج غروب ہو کے گرا تھا خزاں کےبعد
اور آسماں پہ چاند بھی آیا ابھی نہ تھا
ایسے میں تیری یاد کی برسات آ گئی
مجھ کو لگا میں شاخ سے بچھڑا ہوا نہ تھا
تم نے مجھے گریہ کناں دیکھا کبھی نہیں

مژگاں میں آگ تھی مگر دامن جلا نہ تھا

No comments:

Post a Comment