خاموش ہوں میں آنکھ نے بھی کچھ کہا نہ تھا
میں ضبط کے قانون کا مجرم ہوا نہ تھا
آواز میں محرومیوں کی باس تک نہ تھی
ہنستے ہوئے نمکینیوں کا ذائقہ نہ تھا
ہم وحشتوں کی اوج میں بھی ہوش مند تھے
ہم کو تیری رسوائیوں کا حوصلہ نہ تھا
سورج غروب ہو کے گرا تھا خزاں کےبعد
اور آسماں پہ چاند بھی آیا ابھی نہ تھا
ایسے میں تیری یاد کی برسات آ گئی
مجھ کو لگا میں شاخ سے بچھڑا ہوا نہ تھا
تم نے مجھے گریہ کناں دیکھا کبھی نہیں
مژگاں میں آگ تھی مگر دامن جلا نہ تھا
No comments:
Post a Comment