Thursday, 20 August 2015

غزل

کبھی میری نظر سے دیکھو تو قربان ہو جاؤ
مرے دل سے جو سوچو خود کو تو  حیران ہو جاؤ
نجانے کیا سے کیا ہو جائے گی نغمات کی دنیا
اگر میرے شکستہ ساز کی تم تان ہو جاؤ
نجانے فکروفن کے معجزے کیا کیا دکھاؤں میں
اگر تم میری غزلوں، نظموں کا  عنوان ہو جاؤ
ہر اک لحظہ نئی پہچان کی تم مانگ کرتے ہو
بہت مشکل کو تم اے دوست کچھ آسان ہو جاؤ
میں اپنی زندگی کے سارے ہی غم بھول جاؤں گا
اگر تم میرے زخموں کا کبھی درمان ہو جاؤ
عرفان
1 جون، 2003


No comments:

Post a Comment