کبھی میری نظر سے دیکھو تو قربان ہو جاؤ
مرے دل سے جو سوچو خود کو تو حیران ہو
جاؤ
نجانے کیا سے کیا ہو جائے گی نغمات کی دنیا
اگر میرے شکستہ ساز کی تم تان ہو جاؤ
نجانے فکروفن کے معجزے کیا کیا دکھاؤں میں
اگر تم میری غزلوں، نظموں کا عنوان ہو جاؤ
ہر اک لحظہ نئی پہچان کی تم مانگ کرتے ہو
بہت مشکل کو تم اے دوست کچھ آسان ہو جاؤ
میں اپنی زندگی کے سارے ہی غم بھول جاؤں گا
اگر تم میرے زخموں کا کبھی درمان ہو جاؤ
عرفان
1 جون، 2003
No comments:
Post a Comment