Tuesday, 11 August 2015

اتنا سوچ لو جاناں

پریم کی چتاؤں میں
زندہ جلنا پڑتا ہے
اتنا سوچ لو جاناں
ایسا کرنا پڑتا ہے
خواب تم نے دیکھے ہیں
منزلوں کو دوری پر
منزلوں سے پہلے ہی
راستے میں مجبوری
بے شمار اندیشے
خوا ب توڑ دیتے ہیں
جن کو اپنا کہتے ہیں
ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
وہ، انا کی دیواریں
اس طرح اٹھاتے ہیں
جن کو توڑتے اپنے
ہاتھ ٹوٹ جاتے ہیں
ضبط کی فصیلوں میں
کھولتے سے اشکوں کو
 راستہ نہیں ملتا
خون بن کر بہتے ہیں
اشک جب بھی بہتے ہیں
دید کو پریمی کی
آنکھ یوں ترستی ہے
جیسے منزلوں پیچھے
راہ سے بھٹکنے پر
جان سے تہی بدو
پیاس سے سسکتے ہیں
وحشتوں سے جنگ ہوگی
دنیا کربلا ہوگی
کربلا سی دنیا میں
ہار کر سبھی کچھ تو
نہ تو نامور ہوگا
نہ ہی تیرے دشمن پر
 کوئی بھی شتم ہوگا
چل سکو تو آجاؤ
ورنہ سوچ لو جاناں
واپسی کے رستے میں
نارسائی کی آتش
عمر بھر جلاتی ہے
سب خوشی بھی مل جائے
پھر بھی اک کسک کوئی
عمر بھر کھٹکتی ہے
زندگی بھٹکتی ہے

25 جون 2004

No comments:

Post a Comment