پریم کی چتاؤں میں
زندہ جلنا پڑتا ہے
اتنا سوچ لو جاناں
ایسا کرنا پڑتا ہے
خواب تم نے دیکھے ہیں
منزلوں کو دوری پر
منزلوں سے پہلے ہی
راستے میں مجبوری
بے شمار اندیشے
خوا ب توڑ دیتے ہیں
جن کو اپنا کہتے ہیں
ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
وہ، انا کی دیواریں
اس طرح اٹھاتے ہیں
جن کو توڑتے اپنے
ہاتھ ٹوٹ جاتے ہیں
ضبط کی فصیلوں میں
کھولتے سے اشکوں کو
راستہ نہیں ملتا
خون بن کر بہتے ہیں
اشک جب بھی بہتے ہیں
دید کو پریمی کی
آنکھ یوں ترستی ہے
جیسے منزلوں پیچھے
راہ سے بھٹکنے پر
جان سے تہی بدو
پیاس سے سسکتے ہیں
وحشتوں سے جنگ ہوگی
دنیا کربلا ہوگی
کربلا سی دنیا میں
ہار کر سبھی کچھ تو
نہ تو نامور ہوگا
نہ ہی تیرے دشمن پر
کوئی بھی شتم ہوگا
چل سکو تو آجاؤ
ورنہ سوچ لو جاناں
واپسی کے رستے میں
نارسائی کی آتش
عمر بھر جلاتی ہے
سب خوشی بھی مل جائے
پھر بھی اک کسک کوئی
عمر بھر کھٹکتی ہے
زندگی بھٹکتی ہے
25 جون 2004
No comments:
Post a Comment