Tuesday, 11 August 2015

غزل

جب وہ نہیں تو اے دل یہ دھڑکنیں بھی کیوں ہوں
جب خامشی مقدر تو آہٹیں بھی کیوں ہوں
جب کچھ بھی کر نہ  پائے انسان بےبسی سے
تو اس کے دل میں یا رب یہ خواہشیں بھی کیوں ہوں
اب جاگیئے تو کیونکر؟ سو جائیے تو کیسے؟
اب اپنی زندگی میں یہ راحتیں بھی کیوں ہوں
جب توڑ دی ہے تو نے میری کمان ظالم
تو دشمنوں سے مجھ کو شیکایتیں بھی کیوں ہوں
کتنا حسین ہوتا اپنا ملاپ جاناں
لیکن جہاں کی دوزخ میں جنتیں بھی کیوں ہوں
کتنی دکھی تھیں عرفاںؔ وہ بادلوں سی آنکھیں

صحرا ہو جب مقدر تو بارشیں بھی کیوں ہو

No comments:

Post a Comment