جب وہ نہیں تو اے دل یہ دھڑکنیں بھی کیوں ہوں
جب خامشی مقدر تو آہٹیں بھی کیوں ہوں
جب کچھ بھی کر نہ پائے انسان بےبسی سے
تو اس کے دل میں یا رب یہ خواہشیں بھی کیوں ہوں
اب جاگیئے تو کیونکر؟ سو جائیے تو کیسے؟
اب اپنی زندگی میں یہ راحتیں بھی کیوں ہوں
جب توڑ دی ہے تو نے میری کمان ظالم
تو دشمنوں سے مجھ کو شیکایتیں بھی کیوں ہوں
کتنا حسین ہوتا اپنا ملاپ جاناں
لیکن جہاں کی دوزخ میں جنتیں بھی کیوں ہوں
کتنی دکھی تھیں عرفاںؔ وہ بادلوں سی آنکھیں
صحرا ہو جب مقدر تو بارشیں بھی کیوں ہو
No comments:
Post a Comment