دل میں جھانکتی آنکھوں والے
اس دل میں کیا پاؤ گے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ گنواؤ گے
اس دل میں بھی پھول کھلے تھے
اس دل می بھی خوشیاں تھیں
محفل اپنی محفل تھی اور
تنہائیاں بھی سکھیاں تھیں
جلتے بھجتے تارے بھی تب
اپنے اپنے لگتے تھے
چندا کی ہرحرکت پر ہم
اپنی سانسیں گنتے تھے
چپکے چپکے روتے تھے ہم
چپکے چپکے ہنستے تھے
کہتے کہتے رْکتے تھے ہم
رْکتے رْکتے کہتے تھے
سارے خواب سراب ہوئے ہیں
سارے رستے دھول ہوئے
سچی باتیں جھوٹ ہوئیں
اور سارے جھوٹ اصول ہوئے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ بکھرتا ہے
اپنا آپ بکھرتا ہو تو
ہاتھ بھی کون پکٹرتا ہے
دکھ کی مالا کے سب موتی
اپنے ہاتھ سے چنتے ہیں
اپنی آہیں خود سنتے ہیں
اپنے آپ میں گھلتے ہیں
میری کربلاتی وحشت
آنکھوں سے کم چھنتی ہے
میری سسکی کی آوازیں
رات ہوا ہی سنتی ہے
میں بحرِ خاموش میں ابھرا
اک ویران جزیرہ ہوں
میں سورج کے ساتھ نکلتا
اک سنسان سویرا ہوں
اک معلوم حقیقت ہوں میں
مجھ سے نظر ملاؤ گے
دل میں جھانکتی آنکھوں والے
اس دل میں کیا پاؤ گے
No comments:
Post a Comment