Tuesday, 11 August 2015

اس دل میں کیا پاؤ گے

دل میں جھانکتی آنکھوں والے
اس دل میں کیا پاؤ گے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ گنواؤ گے
اس دل میں بھی پھول کھلے تھے
اس دل می بھی خوشیاں تھیں
محفل  اپنی محفل تھی اور
تنہائیاں بھی سکھیاں تھیں
جلتے بھجتے تارے بھی تب
اپنے اپنے لگتے تھے
چندا کی ہرحرکت پر ہم
اپنی  سانسیں گنتے تھے
چپکے چپکے روتے تھے ہم
چپکے چپکے ہنستے تھے
کہتے کہتے رْکتے تھے ہم
رْکتے رْکتے کہتے تھے
سارے خواب سراب ہوئے ہیں
سارے رستے دھول ہوئے
سچی باتیں جھوٹ ہوئیں
 اور سارے جھوٹ اصول ہوئے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ بکھرتا ہے
اپنا آپ بکھرتا ہو تو
ہاتھ بھی کون پکٹرتا ہے
دکھ کی مالا کے سب موتی
اپنے ہاتھ سے چنتے ہیں
اپنی آہیں خود سنتے ہیں
اپنے آپ میں گھلتے ہیں
میری کربلاتی وحشت
آنکھوں سے کم چھنتی ہے
میری سسکی کی آوازیں
رات ہوا ہی سنتی ہے
میں بحرِ خاموش میں ابھرا
اک ویران جزیرہ ہوں
میں سورج کے ساتھ نکلتا
اک سنسان سویرا ہوں
اک معلوم حقیقت ہوں میں
مجھ سے نظر ملاؤ گے
دل میں جھانکتی آنکھوں والے

اس دل میں کیا پاؤ گے

No comments:

Post a Comment