Thursday, 20 August 2015

غزل

کبھی میری نظر سے دیکھو تو قربان ہو جاؤ
مرے دل سے جو سوچو خود کو تو  حیران ہو جاؤ
نجانے کیا سے کیا ہو جائے گی نغمات کی دنیا
اگر میرے شکستہ ساز کی تم تان ہو جاؤ
نجانے فکروفن کے معجزے کیا کیا دکھاؤں میں
اگر تم میری غزلوں، نظموں کا  عنوان ہو جاؤ
ہر اک لحظہ نئی پہچان کی تم مانگ کرتے ہو
بہت مشکل کو تم اے دوست کچھ آسان ہو جاؤ
میں اپنی زندگی کے سارے ہی غم بھول جاؤں گا
اگر تم میرے زخموں کا کبھی درمان ہو جاؤ
عرفان
1 جون، 2003


یاد بہت تم آتے ہو

اجنبی ستارہ جب
راستہ بھٹکنے پر
بےبسی کے ہاتھوں سے
ٹوٹ کر بکھرتا ہے
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی دل دکھائے تو
کوئی روٹھ جائے تو
یاد بہت ہی آئے تو
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی پاس آئے تو
پیار سے بلائے تو
دل کے سونے آنگن میں
گنگھرو بجائے تو
یاد بہت تم آتے ہو
آسرا کوئی چھوٹے
سلسلہ کوئی ٹوٹے
لوگ جب ملیں جھوٹے
یاد بہت       تم آتے ہو
جب انا کی دیواریں
راستہ کوئی روکیں
بھگتی ہوئی پلکیں
ٹوٹتے ہوئے لہجے
پارسا وفاؤں پر
شرمسار ہو جائیں
بے حسی کے ہاتھوں سے
جب کبھی سزا پائیں
یاد بہت تم آتے ہو

27 اگست، 2004

Tuesday, 11 August 2015

اس دل میں کیا پاؤ گے

دل میں جھانکتی آنکھوں والے
اس دل میں کیا پاؤ گے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ گنواؤ گے
اس دل میں بھی پھول کھلے تھے
اس دل می بھی خوشیاں تھیں
محفل  اپنی محفل تھی اور
تنہائیاں بھی سکھیاں تھیں
جلتے بھجتے تارے بھی تب
اپنے اپنے لگتے تھے
چندا کی ہرحرکت پر ہم
اپنی  سانسیں گنتے تھے
چپکے چپکے روتے تھے ہم
چپکے چپکے ہنستے تھے
کہتے کہتے رْکتے تھے ہم
رْکتے رْکتے کہتے تھے
سارے خواب سراب ہوئے ہیں
سارے رستے دھول ہوئے
سچی باتیں جھوٹ ہوئیں
 اور سارے جھوٹ اصول ہوئے
راکھ اڑاتی تیز ہوا میں
اپنا آپ بکھرتا ہے
اپنا آپ بکھرتا ہو تو
ہاتھ بھی کون پکٹرتا ہے
دکھ کی مالا کے سب موتی
اپنے ہاتھ سے چنتے ہیں
اپنی آہیں خود سنتے ہیں
اپنے آپ میں گھلتے ہیں
میری کربلاتی وحشت
آنکھوں سے کم چھنتی ہے
میری سسکی کی آوازیں
رات ہوا ہی سنتی ہے
میں بحرِ خاموش میں ابھرا
اک ویران جزیرہ ہوں
میں سورج کے ساتھ نکلتا
اک سنسان سویرا ہوں
اک معلوم حقیقت ہوں میں
مجھ سے نظر ملاؤ گے
دل میں جھانکتی آنکھوں والے

اس دل میں کیا پاؤ گے

غزل

دل میرا ویران تھا احساس پر گہرا نہ تھا
تجھ سے پہلے خوف تھے پر غم کا یہ پہرہ نہ تھا
اور بھی اسباب تھے بربادئ دل کے مرے
سر تیرے یہ اس تباہی کا فقط سہر ا نہ تھا
تو نے میرے ذوق کا معیار مشکل کر دیا
تھی طبیعت جو تری سی تیرا سا چہرہ نہ تھا
منتظر آنکھیں رہیں برسوں تلک جس کے لیے

آہ! وہ لمحہ کہ جو لمحہ بھر کو بھی ٹھہرا نہ تھا

غزل

جب وہ نہیں تو اے دل یہ دھڑکنیں بھی کیوں ہوں
جب خامشی مقدر تو آہٹیں بھی کیوں ہوں
جب کچھ بھی کر نہ  پائے انسان بےبسی سے
تو اس کے دل میں یا رب یہ خواہشیں بھی کیوں ہوں
اب جاگیئے تو کیونکر؟ سو جائیے تو کیسے؟
اب اپنی زندگی میں یہ راحتیں بھی کیوں ہوں
جب توڑ دی ہے تو نے میری کمان ظالم
تو دشمنوں سے مجھ کو شیکایتیں بھی کیوں ہوں
کتنا حسین ہوتا اپنا ملاپ جاناں
لیکن جہاں کی دوزخ میں جنتیں بھی کیوں ہوں
کتنی دکھی تھیں عرفاںؔ وہ بادلوں سی آنکھیں

صحرا ہو جب مقدر تو بارشیں بھی کیوں ہو

بڑی دیر سے ملے ہو!

بڑی دیر سے ملے ہو!
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
جب زندگی ہماری
اک مشکبو کی مانند
دامان ڈھونڈتی تھی
جب حرف جوڑتے تھے
تو وہ صدا  سی بن کر
میرے شہرِ آرزو میں
ہر لمحہ گونجتے تھے
تب کیو ں نہیں ملے تھے؟
جب حوصلے ہمارے
تیشے کو ہاتھ لے کر
کہسار کھودتے تھے
ہم تم کو ڈھونڈتے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
--------------------------------------
تب  کیوں نہیں ملے تھے؟
جب  اپنی مملکت میں
اک شہر ِ آرزو تھا
اک گلشنِ وفا تھا
جہاں بلبلوں کے  نغمے
تھے ترجمان اپنے
لگتی تھی ساری دنیا
جب ہم کو کچھ نئی سی
ہم خود بھی جب نئے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
--------------------
کوئی شوقِ عہدِ رفتہ
مرے پاس اب نہیں ہے
کچھ ذوق رہ گئے ہیں
غم روزگار کے ہیں
گردش میں رات دن کی
 بڑی دیر سے نہیں ہے
کوئی فرصتوں کی ساعت
جب فرصتیں بہت تھیں
جب حوصلے تھے  قائم
جب آرزو کے گلشن
 میں  پھول کھل رہے تھے
تب کیوں نہیں ملے تھے؟
بڑی دیر سے ملے ہو!
بڑی دیر سے ملے ہو!!

(ڈاکٹرعرفان شہزاد)

اتنا سوچ لو جاناں

پریم کی چتاؤں میں
زندہ جلنا پڑتا ہے
اتنا سوچ لو جاناں
ایسا کرنا پڑتا ہے
خواب تم نے دیکھے ہیں
منزلوں کو دوری پر
منزلوں سے پہلے ہی
راستے میں مجبوری
بے شمار اندیشے
خوا ب توڑ دیتے ہیں
جن کو اپنا کہتے ہیں
ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
وہ، انا کی دیواریں
اس طرح اٹھاتے ہیں
جن کو توڑتے اپنے
ہاتھ ٹوٹ جاتے ہیں
ضبط کی فصیلوں میں
کھولتے سے اشکوں کو
 راستہ نہیں ملتا
خون بن کر بہتے ہیں
اشک جب بھی بہتے ہیں
دید کو پریمی کی
آنکھ یوں ترستی ہے
جیسے منزلوں پیچھے
راہ سے بھٹکنے پر
جان سے تہی بدو
پیاس سے سسکتے ہیں
وحشتوں سے جنگ ہوگی
دنیا کربلا ہوگی
کربلا سی دنیا میں
ہار کر سبھی کچھ تو
نہ تو نامور ہوگا
نہ ہی تیرے دشمن پر
 کوئی بھی شتم ہوگا
چل سکو تو آجاؤ
ورنہ سوچ لو جاناں
واپسی کے رستے میں
نارسائی کی آتش
عمر بھر جلاتی ہے
سب خوشی بھی مل جائے
پھر بھی اک کسک کوئی
عمر بھر کھٹکتی ہے
زندگی بھٹکتی ہے

25 جون 2004

غزل

خاموش ہوں میں آنکھ نے بھی کچھ کہا نہ تھا
میں ضبط کے قانون کا مجرم ہوا نہ تھا
آواز میں محرومیوں کی باس تک نہ تھی
ہنستے ہوئے نمکینیوں کا ذائقہ نہ تھا
ہم وحشتوں کی اوج میں بھی ہوش مند تھے
ہم کو تیری رسوائیوں کا حوصلہ نہ تھا
سورج غروب ہو کے گرا تھا خزاں کےبعد
اور آسماں پہ چاند بھی آیا ابھی نہ تھا
ایسے میں تیری یاد کی برسات آ گئی
مجھ کو لگا میں شاخ سے بچھڑا ہوا نہ تھا
تم نے مجھے گریہ کناں دیکھا کبھی نہیں

مژگاں میں آگ تھی مگر دامن جلا نہ تھا