Thursday, 20 August 2015

یاد بہت تم آتے ہو

اجنبی ستارہ جب
راستہ بھٹکنے پر
بےبسی کے ہاتھوں سے
ٹوٹ کر بکھرتا ہے
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی دل دکھائے تو
کوئی روٹھ جائے تو
یاد بہت ہی آئے تو
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی پاس آئے تو
پیار سے بلائے تو
دل کے سونے آنگن میں
گنگھرو بجائے تو
یاد بہت تم آتے ہو
آسرا کوئی چھوٹے
سلسلہ کوئی ٹوٹے
لوگ جب ملیں جھوٹے
یاد بہت       تم آتے ہو
جب انا کی دیواریں
راستہ کوئی روکیں
بھگتی ہوئی پلکیں
ٹوٹتے ہوئے لہجے
پارسا وفاؤں پر
شرمسار ہو جائیں
بے حسی کے ہاتھوں سے
جب کبھی سزا پائیں
یاد بہت تم آتے ہو

27 اگست، 2004

No comments:

Post a Comment