اجنبی ستارہ جب
راستہ بھٹکنے پر
بےبسی کے ہاتھوں سے
ٹوٹ کر بکھرتا ہے
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی دل دکھائے تو
کوئی روٹھ جائے تو
یاد بہت ہی آئے تو
یاد بہت تم آتے ہو
کوئی پاس آئے تو
پیار سے بلائے تو
دل کے سونے آنگن میں
گنگھرو بجائے تو
یاد بہت تم آتے ہو
آسرا کوئی چھوٹے
سلسلہ کوئی ٹوٹے
لوگ جب ملیں جھوٹے
یاد بہت تم آتے ہو
جب انا کی دیواریں
راستہ کوئی روکیں
بھگتی ہوئی پلکیں
ٹوٹتے ہوئے لہجے
پارسا وفاؤں پر
شرمسار ہو جائیں
بے حسی کے ہاتھوں سے
جب کبھی سزا پائیں
یاد بہت تم آتے ہو
27 اگست، 2004
No comments:
Post a Comment